ماں کا قرض:

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

ماں کا قرض:
-------------
مجھے اب تک وہ بچپن کی نمازيں یاد آتی ھیں
نہ جب آیات آتی تھیں...
نہ جب قرآن آتا تھا
مگر یہ علم تھا
مولا دعائیں ساری سنتا ھے
نمازی کے مصلے کے تلے وہ نوٹ رکھتا ھے
جنہیں مائیں نہیں لیتیں
مگر بچوں سے کہتی تھیں
کہ جتنے مانگے تھے پیسے
یہ اس سے کم ھیں یا زیادہ
تو بچے ھنس کے کہتے تھے
ھمیشہ کم نکلتے ھیں
تو مائیں زور دیتی تھیں
دعائیں بارھا مانگو
تو پورے نوٹ آتے ھیں
خدائے پاک اے مولا
دعا بس ایک ھے تم سے
نمازیں میری جتنی ھیں
اور ان کے جتنے پیسے ھیں
وہ میری ماں کو دے دینا
مصلے پہ وہ جنت میں
دعا سی بن کے بیٹھی ھے
بڑا ھو کر یہ جانا ھے
میری ماں کی بیماری میں
جو پیسےتھے دواؤں کے
وہ ملتے تھے دعاؤں کے
مصلے کے تلے اب کوئی بھی پیسے نہیں رکھتا
مگر جو قرض ماں کا ھے وہ تو لوٹا نہیں سکتا —

Enhanced by Zemanta

Comment on this post