Dastoor by Habib Jalib

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

  1. Dastoor by Habib Jalib
    دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
    چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
    وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
    ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
    میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
    ...
    میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
    میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
    کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
    ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
    میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

    پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
    جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
    چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
    اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
    میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

    تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
    اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
    چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
    تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
    میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
Enhanced by Zemanta

Comment on this post