میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

اس دور کے رسم رواجوں سے
ان تختوں سے ان تاجوں سے
جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں 
انسانی خون سے پلتے ہیں
جو نفرت کی بنیادیں ہیں...
اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں

میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

وہ جن کے ہونٹ کی جنبش سے
وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے
قانون بدلتے رہتے ہیں
اور مجرم پلتے رہتے ہیں
ان چوروں کے سرداروں سے
انصاف کے پہرے داروں سے

میں باغی ہوں ، میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

Published on Great Poet, Urdu Poetry, Urdu

Comment on this post